12 فروری 2015 - 22:06
جنگ کی اجازت حاصل کرنے کی کوشش

عراق اور شام میں دہشتگرد گروہ داعش کے ٹھکانوں پر امریکی فوج کے فضائی حملوں کو چھ ماہ کا عرصہ گزرنے کے بعد امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے ملک کی کانگریس سے اس دہشتگرد گروہ پر حملے کی اجازت دیۓ جانےکا مطالبہ کیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق عراق اور شام میں دہشتگرد گروہ داعش کے ٹھکانوں پر امریکی فوج کے فضائی حملوں کو چھ ماہ کا عرصہ گزرنے کے بعد امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے ملک کی کانگریس سے اس دہشتگرد گروہ پر حملے کی اجازت دیۓ جانےکا مطالبہ کیا ہے۔ باراک اوباما نے کانگریس کے نام ایک خط میں مطالبہ کیا ہےکہ وہ داعش کے خلاف جنگ کی اجازت دے۔ دریں اثناء امریکی صدر باراک اوباما نے صراحت کے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ وہ عراق اور شام میں داعش کے ساتھ لڑائی کے لۓ برّی فوج بھیجنے کی ہنگامی صورتحال کے سوا اس اجازت سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے۔
دہشتگرد گروہ داعش کے ساتھ جنگ کی اجازت حاصل کرنے کے فیصلے سے اگرچہ عراق اور شام کی فوجی صورتحال میں کوئي زیادہ تبدیلی واقع نہیں ہوگي لیکن اس کے سیاسی اور قانونی اثرات ضرور مرتب ہوں گے۔ وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے درمیان بہت سے موضوعات کے بارے میں جاری سیاسی کشمکش اور اختلافات رائے کے بعد اب امریکی حکومت کو یہ امید پیدا ہوئي ہے کہ وہ کانگریس کی حمایت حاصل کر کے دہشتگرد گروہ داعش کے خلاف امریکیوں کے قومی اتحاد کی تصویر پیش کر سکے گي۔ البتہ اس بات کی پیشین گوئي کی جا رہی ہے کہ داعش کے ساتھ جنگ جاری رکھنے پر مبنی باراک اوباما کے منصوبے منجملہ پینٹاگون کی جانب سے خطے میں برّی فوج بھیجنے کے سلسلے میں لیت و لعل سے کام لۓ جانے پر ریپبلیکن پارٹی کی جانب سے تنقید کی جائے گی۔ اس کے باوجود یہ بات بعید نہیں ہےکہ امریکی کانگریس ، کہ جس میں اکثریت ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والوں کی ہے، دہشتگرد گروہ داعش کے ساتھ جنگ کی اجازت حاصل کرنے پر مبنی وائٹ ہاؤس کی درخواست کو مسترد کر دے گي۔ امریکی صدر باراک اوباما کو ایک ایسی جنگ کے لۓ جو بظاہر طویل ، زیادہ اخراجات والی اور زیادہ انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بننے والی جنگ میں ریپبلیکن پارٹی کی حمایت کی ضرورت ہے تاکہ امریکہ میں صدارتی انتخابات کے انقعاد کے موقع پر ان کو اپنے سیاسی حریفوں کی تنقیدوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ریپبلیکن پارٹی نے بارہا عراق اور شام میں دہشتگرد گروہ داعش کے پھیلنے کی روک تھام کے سلسلے میں لیت و لعل سے کام لینے اور کوئي کام انجام نہ دینے کی بناء پر اوباما کی حکومت کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس گروہ پر حملوں میں شدت پیدا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دریں اثناء ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے بعض افراد کا خیال ہے کہ امریکی فوج کو داعش پر حملے کے علاوہ شام کی فوج کے خلاف بھی کارروائی انجام دینی چاہۓ۔یہ ایسا اقدام ہے جس کو وائٹ ہاؤس کم از کم اس وقت مصلحت نہیں جانتا ہے۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ابھی تک امریکہ میں اعلان جنگ کے اختیارات کے بارے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ کانگریس اس بات کی خواہاں ہے کہ جیساکہ آئین اور امریکی کانگریس کی منظور کردہ انیس سو تہتر کے قانون " جنگي اختیارات کی قرارداد" میں درج ہے ، فوج قوہ مقننہ سے اجازت حاصل کرنےکے بعد دوسرے ممالک کے ساتھ جنگ میں شرکت کرے۔ایسی حالت میں کہ جب باراک اوباما سمیت امریکہ کے صدور فوج کے کمانڈر انچیف بھی ہوتے ہیں، جنگ یا صلح کے بارے میں فیصلہ کرتے اور پھر کانگریس کو اس سے مطلع کرتے ہیں۔ یہ صورتحال داعش کے ساتھ امریکہ کی جنگ کی ہے۔ یہ جنگ چھ مہینے قبل شروع ہوئی اور امریکی جنگي طیاروں نے داعش کے خلاف سیکڑوں حملے کۓ۔ اب باراک اوباما کانگریس سے اجازت کے خواہاں ہیں۔ ان اجازت نامے میں کارروائی کو واضح طور پر بیان نہیں کیا گيا ہے۔ بلکہ ممکن ہےکہ باراک اوباما فوج کے کمانڈروں کے ساتھ مشاورت کر کے عراق میں زمینی فوج بھیجنے کا حکم دے دیں۔ ایسی صورتحال میں جنگی اخراجات میں بھی اضافہ ہوگا اور بہت سے امریکی فوجیوں کی لاشیں بھی امریکہ پہنچیں گی۔ باراک اوباما ابھی سے کانگریس سے ایک کلین چٹ حاصل کرنے کے لۓ کوشاں ہیں تاکہ کم از کم آئندہ تین برس تک کے لۓ مشرق وسطی میں داعش اور اس سے ملتے جلتے دوسرے گروہوں کے ساتھ جنگ کا راستہ ہموار ہوسکے۔

.......

/169